افتاده دل
افتاده دل
تحریر از : عمار آصف
دل!!!!...کتنا مربوط ہے ہی لفظ،انسانی احساس کے ساتھ....کہ بولتے ہی دل کی دھڑکنیں تیز ہو جایا کر تی ہیں...کتنی اثر انگیزی ہے اس لفظ میں....کتنی گہرائی ہے اس کی معنویت میں....صدرِ انسانی میں "لؤلؤ مکنون"کی طرح پوشیدہ،اپنے پورے وجود پر ذرا اس کی گرفت تو دیکہئے ...کہ اگر صرف دل کہہ کر ہی لب بہ مہر هو لیا جائے ...تو اپنی سلطنت میں راج کرتا یہ دل یل لخت ہماری طرف متوجہ ہو تا ہے....پہر کیا....لفظ دل کی تمام معنویت،اسکے احوال و کوائف پر کبهی طائرانہ اور کبهی غائرانہ😉 نظر ڈالتے ہوئے سرخ رنگوں سے ہو لی کهیلتے ہوئے مچلنے لگتا ہے....مچلنا اگر کبھی تهلکنے کے معنی میں استعمال کریں تو یہ کبهی ہولناک خبر سن کر ہوتا ہے ....جسکا ادراک ہم چہرہ فق ہو جانے والا محاور سن کر کر لیتے ہیں....یا کبهی یہ مچلنا مژدہ جانفزا پر ہو ....جسکا مشاہدہ ہم چہره سرخ ہو جا نے پر کرتے ہیں. ....
دل کے تعلق سے آراء بہت مختلف ہیں....کچھ کے لئے تو یہ محض گوشت کا ایک لو تهڑا ہے....کچھ کا خیال ہے کہ دل "مرکز توجہ"اور"مرکزفکر" دونوں ہے....کچھ تو بقراط جهاڑتے ہوئے اس کی تفصیل ،😟😟😟معاف کیجئے گا تفاصیل😮😮😮...ہاں تفاصیل 😃😃بیان کرتےہیں....کہ انسانی حالت کے اعتبار سے اس کی بهی حالت بدلتی رہتی ہے....کبهی یہ اتنا سخت ہو جاتا ہے کہ پتهر کی مثال دینے سے بهی اس سختی کا حق ادا نہیں ہوتا.....تو کبهی اتنا نرم ہو جاتا ہے کہ بادلوں کی مثال دیتے ہوئے بهی حق تلفی کا احساس ہوتا ہے_
دل کے "مرکز توجہ"اور"مرکزفکر" ہونے کی بات چلی ہے تو مناسب ہوگا کہ بطریق فلسفیات کچھ ہفوات بکی جائے..... بعض گمراہ کن فلاسفہ کا کہنا ہے......کہ دل انسانی مشین میں آب سرخ کی فراہمی کا ذریع ہے اور بس!!!.....اور بعض ہدایت یافتہ فلسفیوں کا (بزعم کسی کے😃😃😃)کہنا ہے.....کہ دل اپنی رعیت (جسمانی اعضاء) کا حاکم اعلی ہے....
دل کی ایماء پر ہی انسان کچھ کر دکهانے کا (کم)اور کچھ نہ کرنے کا (زیادہ😃)عزم کرتاہے....."حسی احساس "کو بهی پہلے دل ہی ادراک کرتا.......جسکی وجہ سے انسان خوشی و غم میں گولہ و بم کی طرح پهٹتا ہے......شاید یہ مثال غلط ہو پر قافیہ سو فیصدی صحیح ہے.....ضروری نہیں کہ ہر بات قرینہ و قیاس وسیاق میں کہی جائے.....کچھ اسی افتادہ دل کی فر مائش پر تهوڑی بهت پیمائش کے ساتھ ہم بحرِ کاغذ پر قلم کے گهوڑے دوڑا دیتے ہیں.....اب چاہے گرد اڑے یا پانی.....رہے نام اللہ کا......خیر یہ جملے تو ازراہ لطیفہ در آئے......ورنہ انکی چنداں ضرورت نہ تهی....
دل کی ایک حالت یہ بهی ہے .....کہ یہ صفت متضاده کے پردے میں لپٹ کر کبهی سنگ دلی کو جنم دیتی ہے...تو کبهی رحم دلی کو....دل ایک معمہ بن کر کے ره گیا ہے......کتنا پیچیدہ ہے یہ دل......کتنا سلجها ہوا ہے یہ دل.....کتنا سخت ہے یہ ٹکڑا.....کتنا نرم ہے یہ لو تهڑا....کتنی رنگین ہے یہ دنیا.....کتنا پهیکا ہے یہ ویرانہ.....کتنا مضبوط ہے یہ فولاد....کتنا کمزور......................الفاظ ہی ختم ہو گئے😥😥😥😥.....خیر کیا کہا جائے؟؟.....کیا رائے قائم کی جائے؟؟....جواب : کچھ نہیں،.... بس اپنا اپنا سر دهنا جائے....☺☺☺
Comments
Post a Comment